8
وضو میں پاؤں کا مسح
قرآن اور پاؤں کا مسح
پاؤں پر مسح کرنے کا مسئلہ، ان اعتراضات میں سے ایک ہے جو بعض اہل سنت کے علماء نے اہل تشیع اور مکتب اہل بیت (ع) کے پیروکاروں پر عائد کئے ہیں۔ ان کی اکثریت کے حکم کے مطابق پاؤں کو دھولینا واجب ہے اور پاؤں پر مسح کو کافی نہیں سمجھتے۔
حالانکہ قرآن مجید نے وضاحت کے ساتھ پاؤں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے اور پیروان اہل بیت (ع) کا عمل قرآن کے عین مطابق اور 30 سے زائد احادیث نبوی کے بھی موافق ہے۔
بہت سے صحابہ اور تابعین کا عمل بھی پاؤں پر مسح کرنے کی دلیل ہے کیونکہ وہ پاؤں دھونے کے قائل نہيں تھے۔
مگر افسوس! کہ بعض مخالفین نے ان دلائل کو نظر انداز کرکے۔ غور و فکر کئے بغیر ہمارے خلاف اپنے حملوں کا آغاز کرکے نہایت تند و تیز نازیبا اور حق و عدل سے دور، ناانصافی پر مبنی الفاظ سے اس مکتب کے پیروکاروں پر ملامت کی ہے۔
اہل سنت کے مشہور عالم "ابن کثیر" اپنی کتاب "تفسیر قرآن العظیم" میں لکھتے ہیں: "روافض (یعنی شیعیان اہل بیت (ع)) نے وضو میں پاؤں دھونے کے مسئلے کی مخالفت کی ہے اور کسی دلیل و سند کے بغیر، جہل و گمراہی کی بنا پر، مسح (ہاتھ پھیرنے) کو کافی سمجھا ہے حالانکہ آیت کریمہ سے پاؤں دھونے کا وجوب ہی سمجھا جاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا عمل بھی آیت کے مطابق تھا؛ تا ہم انھوں نے (شیعیان اہل بیت (ع)) نے تمام امور کی مخالفت کی ہے اور درحقیقت ان کے پاس اپنے قول و عمل کی کوئی دلیل نہیں ہے!۔ (1)
بعض دوسرے افراد نے بھی آنکھیں اور کان بند کرکے ابن کثیر کی رائے کی پیروی کی ہے اور ان کے ذہن میں جو بھی تہمت آئی ہے ـ مسئلے میں تحقیق کئے بغیر ـ پیروان اہل بیت (ع) پر تھونپ دی ہے۔
شاید ان کا وہم یہ تھا کہ صرف عوام (اور شرع مبین سے بے خبر لوگ) ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے اور ان کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ کسی دن محققین اور علماء ان کے کلام اور ان کی آراء پر تنقید کریں گے اور ان کا تجزیہ کریں گا اور یہ حضرات تاریخ اسلام کے سامنے شرمندہ ہونگے۔
ہم سب سے پہلے کتاب اللہ ـ قرآن مجید ـ کا دامن تھامتے ہیں:
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہونے والی سب سے آخری سورت) سورہ مائدہ میں ارشاد ربانی ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ"۔ (2)
ترجمہ: اے ایمان لانے والو!جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے منہ اور کہنیوں تک کے ہاتھوں کو دھوؤ اور اپنے سر میں مسح کرو اور پیروں کا گٹوں تک۔
بالکل واضح ہے کہ اس آیت میں "اَرْجُلَكُمْ" (نحوی لحاظ سے) "رُؤُوسِكُمْ" پر معطوف ہے، اسی لئے دونوں کا مسح واجب و لازم ہے، نہ کہ پیروں کو دھول لیا جائے خواہ "ارجلکم" کو منصوب (اَرْجُلَکُمْ) پڑھیں چاہے اس کو مجرور (اَرْجُلِکُمْ) پڑھیں۔ (3)
عجیب توجیہات
لیکن جن لوگوں نے قرآنی حکم کو اپنی ذہنیت اور تنگ نظرانہ و غیر منصفانہ آراء، کے موافق نہ پایا تو توجیہات کی تلاش میں نکل گئے اور ان کی یہ توجیہات انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہیں:
1۔ یہ آیت کریمہ سنت نبوی (ص) اور آنحضرت (ص) سے منقولہ احادیث کے ذریعے منسوخ ہوئی ہے!!!
"ابن حزم الاندلسی" اپنی کتاب "الأحكام فى أصول الأحكام" میں لکھتے ہیں:
"چونکہ سنت ميں پیروں کے دھونے پر زور ہے لہذا ہمیں قبول کرنا پڑے گا کہ "مسح" کا حکم منسوخ ہوا ہے!۔
حالانکہ اولاً: تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ سورہ مائدہ قرآن کی آخری سورت ہے اور اس کی کوئی بھی آیت منسوخ نہيں ہوئی ہے۔
ثانیاً: ـ جیسا کی آنے والی سطروں میں بیان ہوگا ـ ان روایات کے مقابلے میں ـ جو دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (ص) وضو میں پیر دھویا کرتے تھے ـ متعدد دوسری روایات موجود ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ آپ (ص) وضو میں پاؤں کا مسح فرمایا کرتے تھے تو ایسے میں یہ کیونکر ممکن ہے کہ قرآنی اصول کو ایسی روایات کے ذریعے منسوخ کیا جائے جن کا حال یہ ہے؟
علاوہ ازیں روایات کے تعارض و تضاد کر باب میں کہا گیا ہے کہ "جب روایات متضاد ہوں تو ان کا قرآن مجید ہوں، تو ان کا قرآن سے موازنہ کرو؛ جو روایات قران کے موافق ہوں وہ مقبول ہیں اور جو قرآن کے خلاف ہوں وہ مردود اور نامقبول ہیں۔
2۔ بعض دیگر منجملہ " احمد بن على رازى جصاص" نے اپنی کتاب "احکام القرآن" میں لکھا ہے کہ: وضو کی آیت مُجمَل ہے اور ہم احتیاط پر عمل کرتے ہوئے پاؤں دھولیتے ہیں۔ تا کہ "غََسْل" (دھلائی) اور مسح دونوں حاصل ہوں۔ (4)
حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ "غَسل" اور "مسح" کے مفاہیم بالکل متباین اور متضاد ہیں اور "مسح"، "غَسل" میں شامل نہیں اور غسل کے دائرے میں نہيں آتا۔
مگر ہم کریں تو کیا کریں کہ تحقیق و مطالعے کے بغیر غیر منصفانہ فیصلے اور تنگ نظرانہ آراء، ان حضرات کو "ظاہرِ قرآن" عمل ہی نہیں کرنے دیتیں۔
3۔ فخررا